Home > تازہ خبریں > تعلیم و صحت > میریٹ اور سیرینا ہوٹلز جیسے بڑے ہوٹلوں اور سیور فوڈز جیسے کن کن ریسٹورنٹس میں عوام کو دھڑا دھڑ مردہ مرغیاں کھلائی جا رہی ہیں؟

میریٹ اور سیرینا ہوٹلز جیسے بڑے ہوٹلوں اور سیور فوڈز جیسے کن کن ریسٹورنٹس میں عوام کو دھڑا دھڑ مردہ مرغیاں کھلائی جا رہی ہیں؟





اسلام آباد (آئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں وفاقی دارالحکومت کے تمام چھوٹے بڑے ہوٹلوں میں مردہ اور نیم مردہ مرغیوں کا گوشت استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر آغا نجیب نے دوران کمیٹی چیئرمین سجاد حسین طوری کو آگاہ کیا، بیشتر بڑے ہوٹل جن میں ،سرینا ، سیور فوڈز، میکڈونلڈ، الحبیبی ریسٹورنٹ سمیت تمام ہوٹلز اور ریستوران میں مردہ مرغیاں اور نیم مردہ حالت میں آنے والیمرغیوں کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے، چھاپوں کے دوران ان کے سٹورز سے کئی ماہ پرانا گوشت برآمد ہوا ہے، کسی بھی بڑے ہوٹل کو سیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں توسفارشیں آنے لگتی ہیں۔چیئرمین سجاد حسین طوری نے میڈیکل کالجز میں فیسوں کے معاملے کو 2016 سے ابتک لٹکانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ فیسیں کس اصول کے تحت بڑھائی جارہی ہیں،پی این ڈی سی اور پرائیوٹ کالجز فیسوں کے بڑھانے پر جو ڈرافٹ کس طرح کیا گیا ہے،وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کی طرف سے پرائیوٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں کے معاملے پر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پرائیوٹ میڈیکل کالجز نے دو ہزار گیارہ سے فیسیں نہیں بڑھائیں ، سرف اور یوریا کھاد ملے دودھ کے خلاف سینیٹر میاں عتیق نے پاکستان ڈیری ایسوی سی ایشن کا اجلاس بلانے کی سفارش کر دی، سینیٹر کلثوم نے این ای ایچ کے رزلٹ کو بوگس قرار دے دیا ، تمباکو نوشی بل معلومات ناکافی ہونے کی وجہ موخر کر دیا گیا ۔جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس سجاد حسین طوری کی سربراہی میں پارلیمینٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی دارالحکومت کے میڈیکل کالجز میں بڑھتی ہوئی فیسوں پر چیئرمین نے سخت تنقید کی ۔اجلاس میں موجود ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر آغا نجیب نے راز سے پردہ اٹھایا کہ وفاقی دارالحکومت کے تمام بڑے اور چھوٹے ہوٹلوں سرینا ،سیور فوڈز، میکڈونلڈ، الحبیبی ریسٹورنٹ سمیتتمام ہوٹلز اور ریستوران میں مردہ مرغیاں اور نیم مردہ حالت میں آنے والی مرغیوں کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے جبکہ گذشتہ چند ماہ کے دوران مارے گئے چھاپوں کے دوران ان کے سٹورز سے کئی ماہ پرانا گوشت ہوا لیکن سیاسی اثرورسوخ کے باعث ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکی ۔

Comments

comments





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *