Home > تازہ خبریں > پاکستان > جنرلوں کا ایک گروہ اپنے باس پر دباﺅ ڈال رہا ہے کہ کھیل کھل کرکھیلاجائے ڈان لیکس پر متنازعہ ہونیوالے صحافی سیرل المیڈانے سنگین دعویٰ کردیا‎

جنرلوں کا ایک گروہ اپنے باس پر دباﺅ ڈال رہا ہے کہ کھیل کھل کرکھیلاجائے ڈان لیکس پر متنازعہ ہونیوالے صحافی سیرل المیڈانے سنگین دعویٰ کردیا‎





اسلام آباد(نیوزڈیسک)کہیں ایسا نہ ہو کہ چیف اپنا کنٹرول جتانے کی ٹھان ہی لیں!ڈان لیکس پر متنازعہ ہونیوالے صحافی نے سنگین دعویٰ کردیا، تفصیلات کے مطابق ڈان لیکس سے متنازعہ ہوجانے والے معروف صحافی سیرل المیڈا نے 8 اکتوبر کو ڈان میں چھپنے والے اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ فوجی انقلاب کا ایک سانچہ ہوتا ہے اور یہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ حکومت مفلوج ہوجاتی ہے، نواز شریف تصادم کی راہ پر چل پڑتے ہیں، ‘لڑکوں’ کا دل بھر جاتا ہے اور آرمی چیف میدان میں آجاتے ہیں۔پہلے کے لیے بھی یہ سانچہ ٹھیک تھا، آگے کے لیے بھی ٹھیک ہے۔اِس میں تھوڑا سا امریکا اور ہندوستان مخالف ہسٹیریا شامل کریں تو آپ سوچیں گے کہ آخر فوجی انقلاب ابھی تک آیا کیوں نہیں؟مگر کہانی اب تھوڑی مختلف رخ اختیار کرچکی ہے۔ اب کوئی بھی اْس واحد شخص کی ہمت نہیں بندھا رہا جو گھوڑا دبا سکتا ہے۔یاروں کا کہنا ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ادارے کی سطح کی مداخلت ہے۔ یار خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کسی بھی فرد سے بڑھ کر ہے۔ یاروں کا مشورہ ہے کہ اگر ملک کو بچانا ہے تو کئی لوگوں کو مل کر کام کرنا پڑے گا۔یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی بھی چیف صاحب کو چیف ایگزیکٹیو بنتے نہیں دیکھنا چاہتا۔کچھ تو گڑبڑ ہے۔ قمرباجوہ پر بھی شکوک کے گہرے سائے لہراتے رہے ہیں۔ نمبر چھ کو آخر نمبر ایک کیوں بنایا گیا؟ نواز اور کمپنی اتنے پْراعتماد کیوں تھے کہ یہی بندہ ان کا بندہ ہے؟شکوک و شبہات کے ساتھ معاملات تھوڑے خراب بھی ہوئے۔ کم از کم ایک شخص پہلے سے مضبوط اْمیدوار تھا۔ نہ صرف اْسے راحیل کی حمایت حاصل تھی بلکہ وہ سپاہیوں کا ہردلعزیز بھی تھا۔ جس کا ریکارڈ بالکل موافق تھا، شہرت اچھی اور طریقہءِ کار بھی درست تھا۔ مگر اْس کے ساتھ زیادتی ہوئی؛ صرف سویلین حکمران کی پسند کی وجہ سے اْسے ذلت آمیز طریقے سے سپرسیڈ کردیا گیا۔اور شاید سب سے زیادہ بدقسمتی باجوہ کی رہی، کہ اْنہیں راحیل کے سائے اور راحیل کے حامی دھڑے کی لامتناہی قوت سے نمٹنا تھا۔مگر، پھر بھی ایسا کچھ نہیں جس پر غالب نہیں آیا جاسکتا اور کچھ بھی بنیادی طور پر اِس سے مختلف نہیں تھا جس کا سامنا کیانی اور راحیل کو کرنا پڑا۔سیرل المیڈا اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ مسئلہ یہ ہے کہ چیف اب بھی اپنی غیر یقینی شروعات پر غالب نہیں آئے ہیں۔ سیاسی جنگ چھڑی ہوئی ہے، افغانستان اور واشنگٹن میں مسائل جنم لے رہے ہیں اور اداروں پر حملہ ہو رہا ہے۔یہی وہ سب کچھ ہے جنہیں حل کرکے شہرت حاصل کی جاسکتی ہے اور یہ کہ یہ تمام حالات و واقعات کافی آہستگی کے ساتھ پیش آئے ہیں اور اِن کی پیشگوئی کرنا بھی کافی آسان تھا۔ دفتر میں آئے ہوئے بھی اب دس ماہ ہوچکے ہیں۔چیف اپنا کنٹرول جتاتے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھتی عوام اور شور مچاتا میڈیا اْنہیں ‘اور کرنے’ کے لیے مجبور کرتا ہے، اور پھر چیف فیصلہ کرتے ہیں کہ یا تو وہ جمہوریت کو چلنے دیں یا پھر میدان میں شکار کے لیے اْتر جائیں۔مگر اِس دفعہ لگتا ہے کہ کوئی بھی شخص اِس واحد شخص کی ہمت نہیں بندھا رہا جو گھوڑا دبا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی نہیں چاہتا کہ چیف صاحب چیف ایگزیکٹیو بن جائیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے پاس اب بھی نیا چیف ہے؛ ایک نووارد جو اب بھی قدم جمانا چاہ رہا ہے۔کچھ تو گڑبڑ ہے اور یہ ہم میں سے کسی کے لیے بھی اچھی نہیں ہوگی۔سب سے اچھا چیف تو وہ ہوگا جسے یقین ہو کہ وہ انتہائی قدم نہیں اْٹھا سکتا، بھلے ہی وہ چاہے یا نہ چاہے۔ یہ واضح ہے کہ ہم وہاں نہیں ہیں۔اِس کے بعد وہ چیف، جسے یقین ہو کہ وہ انتہائی قدم اْٹھا سکتا ہے، مگر پھر بھی انتہائی قدم نہ اٹھانا چاہے۔ اگر ہم خوش قسمت ہوتے تو ابھی یہ صورتحال ہوتی۔مگر ایک ایسے چیف کا دور جس کے بارے میں سب سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا قدم اْٹھا ہی نہیں سکتا، اور نہ ہی کوئی چاہتا ہے کہ وہ بڑا قدم اٹھائے؟کہیں ایسا نہ ہو کہ چیف اپنا کنٹرول جتانے کی ٹھان ہی لیں۔

Comments

comments





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *