Home > تازہ خبریں > بین الاقوامی > بھارت نے ’’واٹر بم‘‘ تیار کرلیا نئے بنائے جانیوالے ڈیموں سے اچانک بڑی مقدار میں پانی چھوڑنے کا گھناؤنا منصوبہ،پاکستان کے کون کون سے علاقوں میں سیلاب آجائیگا ؟ لرزہ خیز انکشافات

بھارت نے ’’واٹر بم‘‘ تیار کرلیا نئے بنائے جانیوالے ڈیموں سے اچانک بڑی مقدار میں پانی چھوڑنے کا گھناؤنا منصوبہ،پاکستان کے کون کون سے علاقوں میں سیلاب آجائیگا ؟ لرزہ خیز انکشافات





بھارت کی ایک اور مکاری ! بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے باعث بہنے والا پانی بھارتی ڈیموں میں جمع کرنے کا سلسلہ شروع ٗ پاکستان اور آزادکشمیر میں سیلاب لانے کی سازشیں شروع ! 7یوم کے اندر مظفرآباد کے دریائے جہلم میں پانی چھوڑنے کا امکان جس سے مظفرآباد سمیت دیگر آبادیوں کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ! ضلعی انتظامیہ ہٹیاں بالا اور مظفرآباد نے وارننگ جاری کردی !دریائے جہلم میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ، قریبی آبادیاں خالی کرنے کا حکم ۔تفصیلات کے مطابق بھارت نے ماضی کی طرح ایک بار پھر مکاری اور چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت سمیت دیگر علاقوں میں بارش اور سیلاب کا پانی اپنے ڈیموں میں بھرنا شروع کردیا ہے جس کے باعث یہ ڈیم 3سے 4روز میں بھرجائینگے جبکہ پاکستان اور آزادکشمیر کے علاقوں کو زیر آب کرنے کیلئے بھارت نے اچانک ہی پانی چھوڑنے کا منصوبہ بنالیا ہے جس سے مظفرآباد سے بہنے والا دریاء جہلم کی قریبی آبادی ہٹیاں بالا،چناری ،چکوٹھی،گھڑی دوپٹہ،مجہوئی سمیت دیگر علاقے زیر آب آسکتے ہیں جس پر ضلعی انتظامیہ ہٹیاں بالا اور مظفرآباد نے وارننگ جاری کردی ہے ، عوام دریا کے قریبی رہائشی آبادی کو خالی کرکے بلند مقاما ت پر پہنچ جائیں جبکہ شکار کرنے کے علاوہ دریاء کے قریب جانے سے روک دیا گیا ہے اور ہنگامی طور پر خطرے سے نپٹنے کیلئے ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی ہیں،بھارت 7 دن کے اندر کسی بھی وقت پانی چھوڑ سکتا ہے ، جبکہ عالمی قوانین کے مطابق بھارت کو پیشگی اطلاع دینی ضرور ی ہے مگر بھارت اپنی مکاری کے باعث حکومت پاکستان اور آزادکشمیر کو پیشگی اطلاع دینے کے بجائے اچانک ہی پانی چھوڑ سکتا جس سے دریائے جہلم میں سیلاب آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے بھارت کی مکاری کی وجہ سے آزادکشمیر کے دریاؤں پر تعمیر ہونے والے پل بھی سیلاب میں بہہ سکتے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں رہائشی کالونیوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

Comments

comments





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *